Friday, August 2, 2013


Chairman Imran Khan Chairing a High Level Meeting of Departmental Secretaries of Khyber-Pakhtunkhwa.

Imran Khan strictly directed guidelines of PTI vision to the provincial bureaucracy for implementation in the province especially in health, education and local Govt system.

He Ordered Provincial Bureaucracy to Work Actively For The Cause Of Change In Khyber-Pakhtunkhwa.So that people of KPK Could get relief.


عمران خان کیا چاہتے ہیں اس کا جواب تو عمران خان ہی دے سکتے ہیں اور رہ گئی ان کی کیمپین تو " جتنا گڑ اتنا میٹھا " ، اگر ان کا ووٹر متحرک ہے اور واقعی ہی دھاندلی کا ساتھ دینا چاہتا ہے تو ان کی طبیعتیں صاف ہو جائے
 گی اور معاملہ سڑکوں اور گلیوں میں طے ہو گا

 یہ موقع بڑا غلط ہے عوام اتنی اذیت میں ہیں ایک تو اکنامک بحران اور دوسری طرف اگرعمران خان کا ورکر، جو کہ آرگنائز نہیں ہو گا . سڑکوں پر نکل آیا تو قیامت کا منظر ہو گا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا تو جیسا آپ کو بتایا ہے کہ جس کا پلان ہوتا ہے وہی ہوتا ہے

جو الیکشن ہوا اس کی بنیاد ہی بوگس تھی جھوٹ پر مبنی الیکشن ، بہت سارے جرائم پیشہ لوگ آئے ہیں آپ 62 اور 63 کو روتے ہیں جھوٹ در جھوٹ بول کر یہ لوگ آگے آئے ہیں ان پر 62 اور 63 ماتم کرنے کے لئے رکھی ہے چاٹنے کے لئے رکھی ہے اگر تمہاری اوقات نہیں ہے کہ اس کو کر سکو تو اس کو اٹھا کر باہر پھینکو : حسن نثار

http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?200469-Aaj-Kamran-Khan-Kay-Saath-2nd-August-2013-Hassan-Nisar

cheap justice

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک ٹنڈ منڈ درخت پر بیٹھ گئے- طوطے نے مینا سے کہا “اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا”
ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا- علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا “آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں”-
اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا ” اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے”
یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا ” یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو”
اس پر الو اپنے ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا “ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا”
... طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے- یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی “تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ”- طوطے نے روتے ہوئے کہا “یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے”
اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا “یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی
ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے”-

See More

SUCH KARWA HI HOTA HAI.....



http://www.insaf.pk/News/tabid/60/articleType/ArticleView/articleId/16937/Rs-198-million-is-released-to-enhance-the-security-of-prisons-in-KP.aspx

سپریم کورٹ نے عمران خان کا مفصل تحریری جواب بھی مسترد کر دیا

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے مختصر تحریری جواب کو ناکافی قرار دے دیا تھا ۔عدالت نے عمران خان کو تفصیلی بیان جمع کرانے کیلئے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت دیا تھا ۔ عمران خان نے ساڑھے گیارہ بجے دوبارہ مفصل تحریری جواب جمع کروایا جس میں عمران خان نے عدلیہ کے عزت و وقار کی بات کی، معافی نہیں مانگی۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کے دوسرے جواب پر بھی مایوسی ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدلیہ کو گالی دیں تو خرابی پیدا ہو گی

... چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ عمران خان نے اپنا مختصر تحریری بیان عدالت میں جمع کرایا۔

جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نہ توہین عدالت کی نہ ہی اس بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے ججوں کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کی وہ آئین کی بالادستی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان کی جماعت نے عدلیہ کی آزادی کے لئے بھر پور کردار ادا کیا۔ عدالت نے عمران خان کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تفصیلی جمع کرانے کیلئے ساڑھے گیارہ بجے تک کا وقت دے دیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کے وقار اور عزت و احترام کی بات جواب میں شامل نہیں۔

عمران خان نے روسٹم پر خود آ کر چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت کا ایجنڈا عدلیہ کی آزادی تھا۔ انہوں نے عدلیہ کی آذادی کیلئے اٹھ دن قید کاٹی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یہ بات نہ کریں یہاں پر بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے عدلیہ کی آزادی کیلئے اپنی نوکریاں بھی قربان کر دیں۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل نے شرمناک کردار والی بات اس عدلیہ کے بارے میں نہیں کی۔ عدالت سے درخواست ہے کہ توہین عدالت نوٹس پر دوبارہ سوچے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے ریمار کس میں کہا کہ عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 225 کا پتہ ہو گا۔ عمران خان کی عزت کرتے ہیں ان کا قومی قد کاٹھ ہے لیکن عدلیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عمران خان کو ادارے کو بدنام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بدنام وہ کر رہا ہے جو عدلیہ کی آزادی کا پرچم اٹھائے ہوئے تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کے دوسرے جواب پر بھی مایوسی ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدلیہ کو گالی دیں تو خرابی پیدا ہو گی۔
See More